تعمیر پاکستان کا اصل ہیرو— چوہدری رحمت علی

0
532

جن کا یوم پیدائش 16 نومبرکومنایا جا رہا ہے

مکتبہ جمال، لاھورکی شائع کردہ چو ہدری رحمت علی کی سوانح حیات کئی لحاظ سےمنفرد اورتاریخی دستاویزہے- پروفیسرخورشید کمال عزیز(کےکے عزیز) نے پندرہ سال کی محنت سے انگریزی میں اسے لکھا جس کا اردوترجمہ اقبال الدین احمد نے تیارکیا-

چوہدری رحمت علی مملکت پاکستان کےحقیقی بانیوں میں سے ہیں- انھوں نے “پاکستان” کا خوبصورت نام اس کے وجود میں اۤنے سے چودہ سال پہلے1933 میں تجویزکردیا تھا- اس کو معرض وجود میں لانے کیلئے ایک تحریک پاکستان نیشنل موومنٹ قائم کی- وہ پہلے مسلمان تھے جنہوں نے دوقومی نظریئےکو ناقابل تردید اندازسے پیش کیا اور برصغیر میں ایک مکمل خود مختار مسلم ریاست کا مطالبہ کیا- اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے تن من دھن سے جدوجہد کی- یہ اس وقت کی بات ہےجب انڈیا میں بسنے والے مسلمان سیاستداں ھندوستان میں ھندوؤں کی اجازت سے اپنے لئےایک فیڈریشن کی مانگ توکرسکتے تھے لیکن مسلمانوں کیلئےایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کرتے ہوئے وہ خوف سے کانپنے لگتے تھے کہ اس طرح ایک طرف ھندو اکثریت ناراض ہو جائیگی تودوسری جانب انگریزسرکارکا عتاب نازل ہوگا- ان حالات میں انگریزاورھندو کا مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ کا بروقت اندازہ کرتےہوئےچوہدری رحمت علی نے مسلم اکثریت پر مشتمل تمام اہم علاقوں کو آزاد ریاستوں میں تبدیل کرنے کا تصورپیش کیا- اس کے نتیجے میں یہ نام نہاد مسلمان لیڈران کے خلاف ہوگئے مگر مسلم عوام کی اکثریت نے رحمت علی کو خوش آمدید کہا

    چوہدری رحمت علی نے1918 میں اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کی، چیف کالج میں ٹیوٹررہے- پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں تعلیم حاصل کی اور 1930 میں لاہورسے انگلینڈ کیلئے روانہ ہوئے- اسی سال بیرسٹری کی تعلیم کیلئےامانول کالج کیمبرج میں داخلہ مل گیا- 28 جنوری 1933 میں انھوں نے “اب یا کبھی نہیں” کے عنوان سےایک پمفلٹ شائع کیا جس میں پہلی بار لفظ “پاکستان” اور مطالبۂ پاکستان پیش کیا- یہ لفظ اور یہ تحریر ہمارے چوٹی کے لیڈروں کی سخت مخالفت کے باوجود، مسلمانوں کےد لوں کی دھڑکن اور تحریک پاکستان کی بنیاد بنے- اور نتیجتًا پنجاب کے سات لاکھ مسلمان عوام کی جانی قربانیوں اورڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کی صرف دو ماہ کے اندرتاریخ کی سب سے بڑی اور ہولناک جبراً ہجرت کے بعد پاکستان دنیا کی ایک طاقت بن کر نقشے پرابھرا

رحمت علی نے اپنے پمفلٹ میں سوال کیا “کیا ہمیں زندہ رہنا ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جانا ہے؟”- ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس نہایت ہی اہم موڑ پرجب برطانوی اور ہندوستانی سیاسی مدبرین اس سرزمین کیلئےایک فیڈرل دستورکی بنیاد رکھ رہے ہیں، ہم اپنے تین کروڑ مسلمان بھائیوں کی طرف سےجوپاکستان میں رہتےہیں- جس سے ہمارامطلب ہے انڈیا کے شمال کے پانچ یونٹ یعنی پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ (افغان صوبہ)، کشمیر۔ سندھ اور بلوچستان- ان کے مشترکہ ورثے کے نام پراور ان کی سیاسی موت اور مکمل تباہی و بربادی کے خلاف ہماری قسمت کا فیصلہ کرنے والی اس پرعزم جدوجہد میں، ہم آپ سے ہمدردی اور حمایت کی اپیل کرتے ہیں- ہماری بہادر لیکن بے زبان قوم کو ہندو قومیت کی قربان گاہ کی بھینٹ نہ صرف غیر مسلم ہی چڑھارہے ہیں بلکہ اسلامی اقدارپر شرمساری کا دھبہ لگا دینے والے، ہمارے نا عاقبت اندیش تاریخ سے نا بلد، ہمارے مسستقبل کے بارے میں قطعی طور پر لاپرواہ، ہمارے نام نہاد لیڈر بھی ایسا ہی کر رہے ہیں

رحمت علی کا کہنا تھا کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کرنیوالےانڈین مسلم وفد کے ارکان نے ناقابل معافی اور بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے- ان لوگوں نے ہندو قومیت کے سامنے اپنی مجبورومقہورمسلمان قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے جانے کی اجازت دیدی ہے- یہ لیڈرآل انڈیا فیڈریشن کے اصول پرمبنی ایک دستور کے بنائےجانے پر پہلے ہی بلاتامل، بغیر کسی احتجاج اور کسی شرط کےاتفاق کر چکے ہیں- درحقیقت اس کا مطلب انڈیا میں اسلام اوراسکےمستقبل کے پروانۂ موت پر دستخط کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے

اس کتاب کا مطالعہ وطن عزیز کے ہراس طبقہ کےلئےضروری اوراہم ہےجو قیام پاکستان کی اب تک سرکاری طورپربیان کردہ فرضی تصویرکا دوسرا اوراصل رخ دیکھنا چاہتا ہے- گزشتہ 73 سالوں میں بیوروکریسی نے اس ملک کے عوام کو بھیڑبکریوں کی طرح جیسےہانکا اوربنیادی حقوق سے محروم کئےرکھا ہےاس کی اصل داستان تاریخی دستاویزات کی مدد سے اس میں بیان کر دی گئی ہے- مصنف نے جس عرق ریزی کے ساتھ قوم کےاس عظیم ھیروکی کاوشوں کو یکجا کرکےان پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے وہ کسی ایرےغیرے کے بس کی بات نہ تھی- دوسری جانب اتنے بےغرض اورعظیم انسان کےساتھ روا رکھے گئے ظلم و ستم کے جو واقعات اس میں بیان کئے گئےہیں انھیں پڑھ کرلازم محسوس ہوتا ہےکہ قوم کے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے

ہماری قیادت اوراسٹیبلشمنٹ کا شرمناک کرداریہ ہےکہ ہرسال 23 مارچ اور 14 اگست کومختلف شعبوں سے تعلق رکھنےوالوں کو قومی خدمات کے نام پر قیمتی اعزازات اورتمغوں سے نوازا جاتا ہے جن میں ایک بڑی تعداد بھانڈوں، قوالوں اوررقاصاؤں کی شامل ہوتی ہے- مگرنہایت افسوس کا مقام ہے کہ جس شخص نے اس ملک کی تعمیراور قیام کے لئےاپنی زندگی تج دی اس کا ان سرکاری ایوانوں میں کوئی نام تک نہیں جانتا- تمغےاوراعزازدینا تودور کی بات ہےان بدبختوں نے تونہ صرف اسےجیتے جی اپنےخوابوں کی تعبیربننےوالے”پاکستان” سے بیدخل کردیا بلکہ 1951 میں انتقال سے لے کرآج تک اسکے جسد خاکی کووطن عزیزمیں تدفین کی اجازت دینے پر بھی آمادہ نہیں ہیں- کیا اس سے بڑا کوئی المیہ ہوسکتا ہے؟ یہی نہی بلکہ انگریزکی کاسہ لیسی میں مصروف اورہندوبنیئے کی طاقت سے مرعوب مسلمان قوم کے سیاسی چھٹ بھیوں نے رحمت علی کی قدآور شخصیت کوعزت واحترام سے ان کا جائزمقام دینے کی بجائے الٹا ان کی مخالفت کرنے کواپنی سیاسی بقاء کےلئےضروری جانا- ان کی یہ حرکتیں بالاخرنومولود پاکستان کو بحیثیت قوم تباہ و بربادکرنے کا باعث بنیں- پہلےکٹا پھٹا پاکستان لیا، پھرتقسیم کےفسادات میں لاکھوں بےگناہوں کےدردناک قتل عام اور عصمتوں کے لٹنے کا تماشا دیکھتےرہے- اسکے بعد آدھا ملک گنوادیا اوراب کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں- وہ جو شاعر نے کہا “تری تعمیرمیں مضمر ہے صورت اک خرابی کی”، اسکا صحیح ادراک اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہوتا ہے- لہٰذا نئی نسل کو ماضی کے سنگین جرائم سے آگاہ کرنے اورآئندہ انکا تدارک کرنے کیلئے ضروری ہے کہ قومی سطح پراس سوانح حیات کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائےاور اسکی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر کے اس پر عمل کیا جائے. ( روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین 16 نومبرمیں: نقاش پاکستان، مصورومحسن پاکستان چودھدری رحمت علی کے یوم ولادت کے سلسلے میں سہیل احمد صدیقی کا خصوصی مضمون دیکھنا نہ بھولیں) ں