یوبی جی کے خالد تواب کا دفاع کرنیوالے گلزار فیروز خود ہائی کورٹ سے نا اہل قرار دیئے جا چکے ہیں۔ ترجمان بی ایم پی

0
14

کراچی (پ ر)۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں کارگذار بزنس مین پینل (بی ایم پی) کے ترجمان نے حزب اختلاف کے یونائٹیڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کی روزمرہ اخباری بیان بازیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یو بی جی کے ترجمان گلزارفیروز پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کا ممبر ہونے کے دعویدار ہیں- لوگ سمجھتے تھے کہ ان کی کوئی ٹینری ہے یا لیدر کی ایکسپورٹ کا کاروبار ہے- مگر گزشتہ سال جب انھوں نے اپنا نام ایف پی سی سی آئی کی رکنیت کیلئے بطور اُمیدوار بھیجا تو اس پر بی ایم پی نے بطور گروپ اپنا اعتراض فائل کیا- اس کے نتیجے میں انکشاف ہؤا کہ نا تو ان صاحب کی کوئی ٹینری ہے اور نا ہی لیدر کی ایکسپورٹ کا کوئی کاروبار ہے- چنانچہ فیصلہ ہوگیا کہ آپ کا لیدر کے کام سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے لہٰذا آپ ٹینرز ایسوسی ایشن کے ممبر برقرار نہیں رہ سکتے- اس طرح قانونی طور پر ان کی رکنیت مکمل طور پر ختم کر دی گئی

اسکے بعد عدالتی کاروائی کے دوران انکشاف ہؤا کہ وہ فیڈریشن کے انتخابات کے دوران ساٹھ یا پینسٹھ لوگوں پر اعتراضات دائر کر چکے تھے- جس پر ہائی کورٹ نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور گلزارفیروز سےکہا کہ آپ تو خود ممبر بننے کے اہل نہیں ہیں اور جعلسازی سے عہدوں پر قابض ہیں مگر دوسرے اہل لوگوں پر اعتراضات کر رہے ہیں- لہٰذا ان کو طلب کیا گیا کہ کیوں نا ان کے خلاف کاروائی کی جائے مگر پھر انھوں نے بی ایم پی سے رابطہ کرکے التجا کی کہ دیکھیں میں اتنا عمر رسیدہ ہوں اب میں کہاں عدالتوں کے چکر لگاؤں اور سزائیں بھگتوں گا لہٰذا ان پر ترس کھاتے ہوئے بی ایم پی کی لیڈر شپ نے انھیں معاف کردیا اور عدالتی کاروائی سے چھٹکارا دلوایا- اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج میاں گل اورنگزیب کی عدالت سے جاری کردہ دسمبر 2020 کے فیصلے اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں- لیکن اس تمام بےعزتی کے باوجود ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ رسہ گیروں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں

اصل حقائق کے مطابق گلزارفیروز کی ٹینری کو فروخت ہوئے پندرہ سے سترہ سال گذر چکے ہیں لہٰذا اس تمام عرصہ میں وہ جتنی مرتبہ بھی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن بنے یا نائب صدر کے عہدوں پر فائز ہوئے وہ سب جعلسازی کا کرشمہ تھا- کیونکہ جو شخص اپنے پیشے سے متعلق ایسوسی ایشن کا رکن بننے کا اہل نہیں ہے وہ ایف پی سی سی آئی کا ووٹر اور اس کی رکنیت کا امیدوار کیسےبن سکتا ہے- اس حوالے سے متعدد عدالتی فیصلے اور نظیریں موجود ہیں- مگر ان تمام ترنااہلیوں اور دھاندلیوں کے باوجود موصوف یوبی جی کے ترجمان بن کر ہر روز گھڑے ہوئے بیانات جاری کر کے اخباری صفحات کالے کر رہے ہیں

لطف کی بات یہ ہے کہ گلزارفیروز بطور ترجمان دن رات جس خالد تواب کے دفاع میں مصروف ہیں اس نےخود پچھلے آٹھ سال سے اسٹیل کا کوئی کاروبار نہیں کیا مگرجو ڑ توڑ کی سیاست کے ذریعے تاجروں کے خود ساختہ لیڈر بنے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے ان کے تمام کاغذات اور ثبوت متعلقہ فورم پر وزارت تجارت کو پیش کر دیئے گئے ہیں۔ اب چونکہ یہ جانتے ہیں کہ گذشتہ دو سال کے دوران اور خصوصاً موجودہ صدر ناصرحیات مگوں کی پرجوش قیادت میں بی ایم پی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ ایک بار پھر دسمبر میں ہونے والے الیکشن بڑے فرق سے ہارنے والے ہیں۔ لھٰذا سارا ٹولہ پریشانی میں ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں چلانے میں مصروف ہے۔ کبھی وزیروں سے فون کرواتے ہیں کبھی گورنر کے پاس دوڑے جاتے ہیں اور بچاؤ بچاؤ کا شور مچانے میں مصروف ہیں۔ ان کی کو شش ہے کہ میدان میں ہاری ہوئی بازی کسی طرح سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے جیت لیں خواہ ایک دن یا ایک ہفتے کے لئےسہی۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here