اسٹیٹ بینک تجارت کی ترقی سے ناخوش، 200 برآمدی کنٹینرز روک دیئے

0
192

اسٹیٹ بینک  کو دی گئی آزادی و خود مختاری  ملکی معیشت  کیلئے وبال بن گئی- باخبر ذرائع کے مطابق  اس سال ستمبر میں این ایل سی کی نگرانی میں   برآمدی سامان سے لدے پانچ  تجارتی کنٹینر آزمائشی  طور پر   پاکستان سے ترکی اور آذر بائجا ن بھیجے گئے تھے جو براستہ ایران دس دن میں  ترکی  اور پانچ دن میں آذربائیجان  کامیابی  سے پہنچے- دونوں ملکوں میں  سفارتی سطح پر ان کا استقبال کیا گیا اور اس امر پر خوشی کا اظہار  ہؤا کہ بحری اور فضائی راستوں کی نسبت  بذریعہ  سڑک سہ طرفہ تجا رتی روٹ کم خرچ بالا نشیں ثابت  ہو گا- اس کے نتیجے میں پاکستان کے تجارتی حلقوں نے اپنی سر گرمیاں بڑھاتے ہوۓ 200 سے  زائد کنٹینروں کی ترکی و آذربائیجان  کو برآمد اور وہاں سے مال کی درآمدکے لئے بکنگ کروادی مگر ا ن کی اس کاوش  پر کمرشل بینکوں اور اسٹیٹ بینک آف  پاکستان کے اعلیٰ حکام نے پانی  پھیر رکھا ہے

وا ضح رہے  اس سے قبل جب مذکورہ بالا  آزمائشی  قافلہ  دونوں ممالک سے درآمدی سامان لے کر واپس پہنچا تھا  اس وقت بھی اسٹیٹ بینک نے  اگلے 10  دن تک اس کی کلیئرنس میں رخنہ اندازی  کرتے ہوۓ تاجروں کو  پریشان کیا تھا- اور اب پھر وہی صورتحال پیدا کر دی  کہ وہ مذکورہ  سامان کی برآمد کیلئے  ‘ای’  فارم  اور وہاں سے آنیوالے مال  کے لیئے ‘آئی’ فارم جاری  کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے- اس کا اہم سبب با خبر حلقوں کے مطابق ان کنٹینروں کا ایران  سے گذرنا قرار دیا جارہا ہے- ان ذرائع کے مطابق چونکہ امریکہ ایران سے ناراض سے ہے لہٰذا ہمارے حکام بھی ایران سے ناراض ہیں جس کی خاطر وہ ملکی مفادات  کو نقصان پہنچانے  سے باز نہیں آتے- لہٰذا اس حکومت کی خارجہ پالیسی ، تجارتی پالیسی  اور مالیاتی  پالیسی ایک طرفہ تماشا بنی ہوئی ہے جس کے سبب ملک کی معاشی حالت دن بدن  ابتر ہوتی  جارہی  ہے

ایک جانب وزیراعظم کے  مشیر تجارت  رزاق داؤد ایران کا دورہ کر کے وہاں ایم او یو سائن کرکے آئے ہیں کہ ایران سے تجارتی تعلقات کو فروغ دیں گے  مگر دوسری  طرف  خزانے کا مرکزی  بینک  ایران  کو تجارتی  مقصد کیلئے بطور راہگذر استعمال کرنے کا بھی  سخت مخالف ہے اور اسکی اجازت نہیں دے رہا- امریکیوں سے وفاداری  کی اس سے بدتر   مثال اور کوئی  نہیں ہو سکتی – خود یورپی ممالک ، چین ، روس اور بھارت جیسے پڑوسی ملک ایران سے دو طرفہ تجارت  میں مصروف ہیں   مگر ہماری بیوروکریسی ایران و افغانستان  جیسے ہمسایہ ملکوں سے فاصلے بڑھانے میں فخر محسوس کرتی ہے

افغانستان  پر امریکیوں کے ناجائز قبضے کے دوران  پاکستان سے  روسی آزاد  ریاستوں کو جانیوالے تجارتی مال پر جگہ جگہ وار لارڈز کو ان کی من مانی  رقوم  ادا کرنا پڑتی تھیں جو تین سے چار ہزار  ڈالر فی ٹرک بنتی تھیں- لیکن طالبان حکومت کے قیام  کے بعد ان سب وار لارڈز کا خاتمہ کر دیا گیا اور تجارتی قافلوں پر ساڑھے تین سو ڈالر  فی ٹرک قانونی  ٹرانزٹ فیس  عائد کردی گئی- اس کے نتیجے  میں صرف  ماہ  اکتوبر میں  پاکستان  سے قازقستان  کو جانیوالے برآمدی سامان کی مالیت   میں پانچ گنا اضافہ ہؤا اور وہ 20 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ اس سے قبل پورے سال میں محض چار ملین ڈالر کی تجارت ہوتی تھی- اس حقیقت کا انکشاف کسی اور نے نہیں بلکہ خو د قازقستان کے سفیر  نے  اپنے دورۂ وفاقی ایوانہاۓ صنعت و تجارت کے موقع پر کیا- اس کے باجود  ہمارے حکام  طالبان  حکومت کو  محض امریکہ کے خوف سے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں- ان حالات  میں ملکی تجارتی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ  اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کو بطور مرکزی بینک فوری طور پر تمام کمرشل بینکوں کو ہدایت  کرنی چاہیےکہ وہ بلا کسی روک ٹوک  کے متعلقہ تاجروں کو زرمبادلہ کی ضروریات کے مطابق آئی اور ای  فارم جاری کریں تاکہ ملکی تجارت کو فروغ حاصل  ہو اور معاشی حالت سدھر سکے