چھ روپے کی بجلی 38 روپے میں فروخت ،کے الیکٹرک کے فراڈ بے نقاب،حکومت بھی ملوث

0
26

٭کے الیکٹرک کی بجلی کی پیداواری استعداد خود اُسے کے دعوؤں سے کہیں کم تر ہے، ستمبر میں وہ محض 1254 میگا واٹ بجلی اپنے ذرائع سے پیدا کرسکی

٭ ماہرین کے مطابق اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اتنی بجلی کے پلانٹس کی اصل قیمت نہیں جتنی رقم وہ صرف ایک سال میں بجلی کی فروخت کے سودوں میں وصول کر لیتے ہیں

٭ کے الیکٹرک لمیٹڈ نے اس ماہ کے دوران میں اپنی پیدا کردہ بجلی کا نرخ 20 روپے 81 پیسے ظاہر کیا مگر پی پی اے اورسی سی پی نے کبھی اس کا نوٹس نہیں لیا

٭ نیپرا کے ذمہ دار آج تک ایسا کوئی فارمولا وضع نہیں کر سکے جس پر پورا سال بآسانی عملدرآمد ہو سکے ، جسے تکنیکی زبان میں منجمدٹیرف کہا جاتا ہے

معاشی ماہرین کے مطابق اس وقت ملکی معیشت اور عوام کا دشمن نمبر ایک پاؤر سیکٹر ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر بیوروکریسی روزانہ ایک لاکھ بیرل سے زائد مقامی طور پر پیدا شدہ تیل چوری کرکے اپنی جیبیں بھرنا چھوڑ دے تو پورے ملک کے لوگوں کو صرف 2روپے فی یونٹ کے معمولی نرخوں پر بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کے الیکٹرک لمیٹڈ جن 13 مختلف اداروں سے بجلی حاصل کر کے کراچی کے شہریوں کو فراہم کر تی ہے، اس میں ایٹمی پاؤر، ونڈ پاؤر، سولر، ہائیڈل اور تھرمل پانچوں ذرائع سے حاصل کردہ بجلی شامل ہے۔ جسے حکومت اور پاؤر سیکٹر 6 روپے کے بجائے 38 روپے سے زائد میں صارفین کو فروخت کر رہے ہیں۔ زیر نظر رپورٹ میں جو تازہ ترین اعدادوشمار ریکارڈ پر دستیاب ہیں ان کا تعلق ستمبر 2021سے ہے۔

کے الیکٹرک لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ کراچی کی ضرورت 3300 میگا واٹ کی ہے مگر ماہ ستمبر میں اس نے صرف2669 میگا واٹ بجلی فراہم کی جس میں سے 1254 میگا واٹ اسکی اپنی پیدا کردہ تھی جبکہ 1415 میگا واٹ اس نے مذکورہ بالا 13 دیگر اداروں میں شامل 9 کمپنیوں سے حاصل کی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کے الیکٹرک لمیٹڈ ہمیشہ سے دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اس کی پیداواری استعداد 2400 میگا واٹ ہے مگر اس رپورٹ کے مطابق اس کی صلاحیت 1875 میگا واٹ سے زائد نہیں ۔ جبکہ ستمبر میں وہ محض 1254 میگا واٹ بجلی اپنے ذرائع سے پیدا کرسکی تھی۔ ادھر نیپرا نے اپنی ویب سائٹ پر اسے 2817 میگا واٹ کا لائسنس جاری کر رکھا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کمپنی نیپرا کی ملی بھگت سے حکومت اور عوام کو سراسر دھوکہ دیتی رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق کچھ اسی قسم کی صورتحال دیگر آئی پی پیز کی بھی ہے۔ ان اداروں کی کارکردگی اور ان کے حکومت سے طے کردہ معاہدے بھی یکطرفہ تماشا ہیں جن کے بارے میں عام لوگوں اور خصوصاً صارفین کو ہمیشہ لاعلم رکھا جاتا ہے اور سرکلرڈیٹس کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس کی واجب الادا رقوم کروڑوں اور اربوں سے نکل کر کھربوں روپے تک جا پہنچی ہیں۔

غضب خدا کا، ایک ہی طرح سے پیدا ہونے والا بجلی کا یونٹ ہے مگر اس پر آنیوالی لاگت فیول کاسٹ کے نام پر ایک کمپنی سی پی پی اے فی یونٹ پیداواری لاگت 6 روپے 67 پیسے ظاہر کررہی، دوسری 6 روپے 66 پیسے، ایس این پی سی 7روپے 13 پیسے، لکی کے نرخ 9روپے 55 پیسے ہیں۔ آئی آئی ایل10 روپے 66 پیسے تو ایف ایف بی ایل 10 روپے 98 پیسے، گل احمد 18 روپے 64 پیسے اور ٹپال 18 روپے 84 پیسے جبکہ ایل او ٹی ٹی ای(لوٹی) کی لاگت 21 روپے 72 پیسے تک جا پہنچی ہے۔ چنانچہ ماہرین کے مطابق اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ان پلانٹس کی اصل قیمت اتنی نہیں جتنی رقم وہ صرف ایک سال میں بجلی کی فروخت کے سودوں میں وصول کر لیتے ہیں۔ مگر ان سے پو چھنے والا کوئی نہیں کہ ایک ہی چیز کی قیمت میں تین سو فیصدسے زائد کا اضافہ کیوں ؟ جبکہ کوالٹی کا فرق بھی واضح نہیں ہے۔ سب سے زیادہ لطف کی با ت یہ ہے کہ اس ماہ کے دوران میں خود کے الیکٹرک لمیٹڈ نے اپنی پیدا کردہ بجلی کا نرخ 20 روپے 81 پیسے ظاہر کیا ہے مگر حکومتی سطح پر قائم کردہ اداروں پی پی اے اورکمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کبھی اس کا نوٹس نہیں لیا۔ کے الیکٹرک لمیٹڈ نے ستمبر کے ایک ماہ میں ان کمپنیوں سے حاصل کردہ بجلی 1018 گیگا واٹ ظاہر کی جس پر فیول کی قیمت 8768 ملین روپے بنی جبکہ کے الیکٹرک نے اپنی بجلی 903 گیگا واٹ کی لاگت سے 18805 ملین روپے بتائی (واضح رہے ایک گیگا واٹ میں ایک ملین کلو واٹ ہوتے ہیں)۔

اس طرح ستمبر 2021 میں کل 1922 گیگا واٹ بجلی کراچی کو فراہم کی گئی جس پر 27573 ملین روپے سے زائد لاگت آئی۔ کمپنی کی اپنی ظاہر کردہ رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک کی بجلی کی فی کلو واٹ قیمت 20 روپے81 پیسے کے لگ بھگ تھی جبکہ خریدی گئی بجلی کی اوسط قیمت 8روپے 60 پیسے کے قریب تھی۔ رپورٹ کے مطابق ان دونوں رقوم کا اوسط 14 روپے 34 پیسے فی کلو واٹ بنا۔اس بجلی کی جوقیمت اپنے صارفین سے کمپنی نے وصول کی ،اس کی ایک مثال کے مطابق گھریلو صارفین کے ایک میٹر نے 580 یونٹ ظاہر کیے۔ ان یونٹس میں آف پیک کے نرخ 16 روپے 33 پیسے اور آن پیک کے نرخ 22 روپے 65 پیسے چارج کرتے ہوئے دیگر ہیراپھیریوں کو شامل کرکے کل رقم 11 ہزار126 روپے کے لگ بھگ ظاہر کی گئی۔ اس رقم میں ڈیڑھ فیصد الیکٹریسٹی ڈیوٹی کے 166 روپے، 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے1919 روپے اور 35 روپے ٹی وی لائسنس فیس کی مجموعی رقم ملا کر جو 2121 روپے سے زائد بنتی ہے ، بل کی کل رقم 13 ہزار 248 روپے تک جا پہنچی۔ اس رقم کی مقررہ تاریخ تک عدم ادائیگی کی صورت میں1112 روپے کا جرمانہ مزید شامل کریں تو مجموعی رقم14362 روپے بنتی ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ 14 روپے 34 پیسے فی کلو واٹ کی بجلی کی قیمت کے الیکٹرک کمپنی اور حکومت نے اپنے صارف سے 24 روپے 76 پیسے وصول کی۔

اگر اس زائدرقم کی اوسط نکالی جائے تو وہ 75 فیصد کے لگ بھگ بنتی ہے۔ یہ صورتحال حکومت اور کے الیکٹرک کمپنی کے درمیان عام صارفین کو لوٹنے کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جو اس وقت جاری ہے اور ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اس تمام پس منظر میں کے الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز کی جانب سے ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام سے پبلک ہیئرنگ کی صورت میں جو ڈرامہ رچایا جاتا ہے، اس میں شرکت کرنے والوں کے مطابق یہ مشق اس لحاظ سے قطعی فضول ہے کہ بنیادی طور پر تو بجلی فراہم کرنی والی کمپنیاں اپنے خریدے ہوئے تیل کی قیمت صارفین کو جاری کردہ بلوں کے ذریعے پہلے ہی وصول کر لیتی ہیں ۔ اس کے باوجود وہ ایف سی اے اور سہ ماہی نرخوں کی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر مزید رقوم کا دعویٰ کر کے اربوں روپے صارفین سے بٹورنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری نیپرا میں تعینات سرکاری اہلکاروں پر عائد ہوتی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ نیپرا کے ذمہ دار آج تک ایسا کوئی فارمولا وضع نہیں کر سکے جس پر پورا سال بآسانی عملدرآمد ہو سکے اور جسے تکنیکی زبان میں منجمدٹیرف کہا جاتا ہے۔ لہٰذا ایف اے سی کے نام پر بجلی صارفین کے سروں پر ہر ماہ ایک تلوار لٹکا دی جاتی ہے کیونکہ تیل کے بین الاقوامی نرخ کم ہوں یا زیادہ ، صارفین کو اس کا آج تک کوئی فائدہ نہیں پہنچا، سارا فائدہ ان کمپنیوں کو ہی پہنچایا جاتا ہے۔

اس حوالے سے توانائی کے اُمورخصوصاً بجلی کے شعبے پر گہری نظر رکھنے والے ماہر انیل ممتاز نے اپنے تبصرہ میں کہا کہ بجلی کی مقامی پیداواری لاگت میں اس بے انتہا اضافے کا سب سے بڑاسبب خود حکومت کا اپنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ وہ پہلے بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے فرنس آئل کی درآمد پردیگر ڈیوٹیوں کے ساتھ سیلز ٹیکس وصول کرتی ہے ، پھر آئل کمپنی اس تیل کی کے الیکٹرک کو فروخت پر سیلز ٹیکس عائد کرتی ہے ، اس کے بعد کے الیکٹرک اس تیل سے بننے والی بجلی پر سیلز ٹیکس وصول کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تھرمل بجلی کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اضافہ نا صرف گھریلو صارفین بلکہ کمرشل اور صنعتی پیداواری لاگت پر بھی بھاری بوجھ بن گیا ہے۔ جس نے ملکی معیشت کی کمر توڑ رکھی ہے اور سماجی و معاشی طور پر ہر شخص پریشان ہے۔ اگر بجلی بنانے میں استعمال ہونے والے تیل یا ایندھن کو اس صنعت کا خام مال قرار دیتے ہوئے دیگر صنعتوں کی طرح ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے تو ملکی ضرورت کی بجلی کا خرچ بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔

اس سلسلے میں کمرشل بلنگ کی نشاندہی کرتے ہوئے انیل ممتاز نے بتایا کہ ایک صارف کو اسی ماہ کے دوران 350 یونٹ کا بل 7371 روپے کے الیکٹرک چارجز بنا کر اس میں 147 روپے الیکٹریسٹی ڈیوٹی، 1278روپے جنرل سیلز ٹیکس، 225 روپے مزید جی ایس ٹی، 375 روپے ایکسٹرا جی ایس ٹی اور مزید 375 روپے جی ایس ٹی آن ریٹیلردرج کرنے کے بعد 927 روپے انکم ٹیکس کے ساتھ 60 روپے ٹی وی لائسنس شامل کیے گئے ۔ ان سات اضافی رقوم کو گورنمنٹ چارجز قرار دیتے ہوئے ان کا مجموعہ 3390 روپے شامل کر کے بل کی کل رقم 10762روپے ظاہر کی گئی۔ اس رقم میں مزید روایتی ہیرا پھیریاں شامل کر کے اسے 12763 روپے تک پہنچا دیا گیا پھر اس میں لیٹ پیمنٹ سرچارج کے 737 روپے ملا کر مجموعی بل کو 13500 روپے بنا کر صارف کو جاری کر دیا گیا جس کا واضح مطلب 38 روپے 57 پیسے فی کلو واٹ ہوا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ایک بار کے سیلز ٹیکس سے حکومت کا پیٹ نہیں بھرتا لہٰذا اس نے لاکھوں کمرشل صارفین سے ایک ہی ماہ میں چار قسم کا سیلز ٹیکس وصول کیا جس پر اسے کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے۔ اب آئیے صنعتی شعبے کی جانب اس میں 607 یونٹ خرچ کرنیوالے صارف کو اسی مہینے میں مجموعی طور پر 23258 روپے کا بل بھیجا گیا جس کااوسط ریٹ 38 روپے 31 پیسے فی یونٹ بنا۔ تفصیل اسکی کچھ یوں ہے کہ کے الیکٹرک نے 15 روپے 23 پیسے فی یونٹ کے حساب سے 9244 روپے بنائے جن میں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ اور دیگر شعبدہ بازیاں ملا کر کے ای چارجز کی رقم 15544 روپے تک پہنچا دی ۔ اب اس میں 233 روپے الیکٹریسٹی ڈیوٹی، 2682 روپے جنرل سیلز ٹیکس ، 3 فیصد مزید جی ایس ٹی کے نام پر 473 روپے ، پھر 5 فیصد ایکسٹرا جی ایس ٹی کے 788 روپے ، انکم ٹیکس کے 1922 روپے اورٹی وی لائسنس فیس کے 60 روپے سمیت چھ اضافی رقوم کا مجموعہ 6159 روپے بنا۔ اسے شامل کرنے کے بعد کل رقم 21703 روپے تک جا پہنچی جس میں1554 روپے لیٹ پیمنٹ سرچارج ملا کر 23258 روپے کا بل صارف کو جاری کیا گیا۔ انیل ممتاز کے مطابق وہ ان ڈکیتیوں کے خلاف ایک طویل عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں مگر حکام بالا اس کا تدارک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔

کے الیکٹرک لمیٹڈ ہمیشہ سے دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اس کی پیداواری استعداد 2400 میگا واٹ ہے مگر اس رپورٹ کے مطابق اس کی صلاحیت 1875 میگا واٹ سے زائد نہیں ۔ جبکہ ستمبر میں وہ محض 1254 میگا واٹ بجلی اپنے ذرائع سے پیدا کرسکی تھی۔ ادھر نیپرا نے اپنی ویب سائٹ پر اسے 2817 میگا واٹ کا لائسنس جاری کر رکھا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کمپنی نیپرا کی ملی بھگت سے حکومت اور عوام کو سراسر دھوکا دیتی رہی ہے۔ ۔۔۔ ایک ہی طرح سے پیدا ہونے والے بجلی یونٹ پر آنیوالی لاگت فیول کاسٹ کے نام پر ایک کمپنی سی پی پی اے فی یونٹ پیداواری لاگت 6 روپے 67 پیسے ، دوسری 6 روپے 66 پیسے، ایس این پی سی 7روپے 13 پیسے، لکی کے نرخ 9روپے 55 پیسے ظاہر کررہی ہے۔ آئی آئی ایل10 روپے 66 پیسے ، ایف ایف بی ایل 10 روپے 98 پیسے، گل احمد 18 روپے 64 پیسے اور ٹپال 18 روپے 84 پیسے جبکہ ایل او ٹی ٹی ای(لوٹی) کی لاگت 21 روپے 72 پیسے تک جا پہنچی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام سے پبلک ہیئرنگ کی صورت میں ڈراما اس لحاظ سے قطعی فضول ہے کہ بجلی فراہم کرنی والی کمپنیاں اپنے خریدے ہوئے تیل کی قیمت صارفین کو جاری کردہ بلوں کے ذریعے پہلے ہی وصول کر لیتی ہیں ۔ اس کے باوجود وہ ایف سی اے اور سہ ماہی نرخوں کی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر مزید رقوم کا دعویٰ کر کے اربوں روپے صارفین سے بٹورنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری نیپرا میں تعینات سرکاری اہلکاروں پر عائد ہوتی ہے۔