ایف پی سی سی آئی کا خزانہ کس نے لوٹا؟

0
24

کراچی ۔ (ناصر محمود)۔ وفاقی ایوانہاۓ صنعت و تجارت کے سالانہ انتخابات 30 دسمبر کو منعقد ہونا ہیں ۔ اس موقع پر اسکی حزب اختلاف کے 80 سالہ سر پرست اعلٰی کی جانب سے جاری کردہ ایک دلچسپ ویڈیو کاروباری حلقوں میں زیر بحث ہے ۔ اس میں انھوں نے حزب اقتدار پر جہاں اور بہت سارے روایتی قسم کے الزامات عائد کئے وہاں ایک سنگین الزام یہ بھی تھا کہ میں دو سال قبل اپنے پانچ سالہ دور کے خاتمے پر فیڈریشن کے اکاؤنٹ میں 16 کروڑ روپے چھوڑکر گیاتھا جن میں سے بر سر اقتدار گروپ یعنی بی ایم پی 14 کروڑ روپے کھا گیا ہے۔ بیڑا غرق کر دیا گیا ہے ، فیڈریشن تباہ و برباد ہو گئی ہے صرف خرچ پر خرچ کر رہے ہیں۔

ان بزرگ رہنما کی ویڈیو کے جواب میں بزنس مین پینل کے اہم لیڈر غنی عثمان نے جو بیان جاری کیا اس میں کہا کہ منیر بھائی آپکی باتیں میں نے سنیں آپ تین سال پہلے انجم بھائی کے خلاف بھی کافی جھوٹ بولتے تھےاور اس مرتبہ بھی آپ نے جھوٹ بولا کہ 16 کروڑ چھوڑ کر گئے تھے – آج کی تاریخ میں ہمارے پاس 21 کروڑ روپے موجود ہیں آپ چاہیں تو آکر دیکھ سکتے ہیں اور چار بڑے آڈیٹر ز بھی بھیج دیں جو اسکی تصدیق کریں گے- یہ باتیں آپ کے منہ سے اچھی نہیں لگتیں بار بار آپ جھوٹ بولتے رہیں- انشاءاللہ تعالیٰ اس سال کا نتیجہ دیکھیں گے تو پتہ چلے گا کہ آپ کا انجام کیا ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں تفصیلات جاننے کے لئے ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصر حیات مگوں سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ زبانی جمع خرچ یا ایک دوسرے پر لعن طعن کی سیاست پر ہم یقین نہیں رکھتے۔ گزشتہ دو سال کے دوران صنعتی و تجارتی برادری کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہم نے جو جدوجہد کی وہ سب کے سامنے ہے اور کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جہاں تک فیڈریشن کے مالی معاملات کا تعلق ہے وہ قطعی طور پر صاف و شفاف ہیں جس کا دل چاہے آکر دیکھ لے۔ ہم نے ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 لاکھ روپے کا اضافہ کیا۔ مخالف گروپ نے 2019 میں ٹریولنگ اینڈ کنوینس پر 72 لاکھ خرچ کئے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ ہمارے سینئر ساتھی غنی عثمان صاحب نے درست فرمایا کہ 2019 میں مخالف گروپ نے جو بیلنس چھوڑا وہ 15 لاکھ 56 ہزار کے لگ بھگ تھا مگر آج بی ایم پی نے اسے 21 کروڑ تک پہنچا دیا ہے۔ اس حقیقت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوٹ مار کس نے کی؟